ممبئی،25؍مئی(ایس او نیوز؍پریس ریلیز)گذشتہ 24؍ سالوں سے جیل میں قید و بند کی سعوبتیں جھیلنے والے ایک مسلم شخص کو بالآخیر گذشتہ شب دیر گئے جئے پور سینٹرل جیل سے 21؍ دنوں کے لیئے پیرول پررہا کردیا گیا ، اس سے قبل سپریم کورٹ کا حکم نامہ موصول ہونے کے بعد بھی جیل حکام ملزم کو جیل سے رہا کرنے میں ٹال مٹول کا مظاہرہ کررہے تھے لیکن جیسے ہی جمعیۃ علماء کے توسط سے جیل سپرنٹنڈنٹ کو قانونی نوٹس بھیجا گیا اور توہین عدالت کو مقدمہ قائم کرنے کا اشارہ دیا گیا جیل سپرنٹنڈنٹ نے آناً فاناً میں ملزم کو جیل سے رہا کردیا ۔
جمعیۃ علماء کے وکلاء ایڈوکیٹ عارف علی اور ایڈوکیٹ مجاہد احمد نے ملزم اشفاق احمد کی جیل سے رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ گذشتہ ہفتہ سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ نے ملزم کو21؍ دنوں کے لیئے پیرول پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے۔سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے کے سکری اور جسٹس اشوک بھوشن نے عمر قید کی سزا کاٹ رہے اشفاق احمد کو اس کی والدہ کے انتقال پر ۲۱؍ دنوں کے لیئے پیرول منظور کی تھی اور اسے عدالت کا حکم نامہ موصول ہوتے ہی جیل سے رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے لیکن جئے پور سینٹرل جیل حکام عدالت کا حکم نامہ موصول ہونے کے بعد بھی ملزم کو جیل سے رہا نہیں کررہے تھے اور ملزم کے بار بار درخواست کیئے جانے پر بھی اس کی درخواست پر دھیان نہیں دیا اور چار دن ایسے گذر گئے ۔ ملزم کی جیل سے رہائی میں ہونے والی تاخیر کا جمعیۃ علماء نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ایڈوکیٹ عارف علی کی معرفت جیل سپرنٹنڈنٹ کالیداس دویدی کو قانونی نوٹس بھیج کر اس کے خلاف توہین عدالت کو مقدمہ قائم کرنیکی بات کہی تو جیل حکام نے عدالت کی کارروائی کے ڈر سے ملزم کو دیر شب گئے ۲۱؍ دنوں کے لیئے پیرول رہا کردیا ۔
اس سے قبل بھی جئے پور جیل انتظامیہ نے سپریم کورٹ کے حکمنامہ کو نظر انداز کردیا تھا اور ملزم کی پیرول پررہائی کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھا کہ مرکزی سرکار کے نئے جی آر کے مطابق ٹاڈا قانون کے تحت گرفتار ملزمین کو پیرول پر رہا نہیں کیا جاسکتا جس کے بعد جمعیۃ علماء نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھاجہاں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کے جی آر کو غیرآئینی قرارد دیتے ہو ئے اپنے تفصیلی فیصلہ میں لکھا تھا کہ ہر قیدی کو پیرول کی سہولت ملنا چاہئے ، ٹاڈا، پوٹا، مکوکا وغیرہ قانونی و دیگر قانون پیرول پر رہائی میں رکاوٹ نہیں بن سکتے ۔
ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے بھی ملزم کی جیل سے رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے ممبئی میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ گذشتہ۲۴؍ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید عمر قید کی سزا کاٹ رہے اشفاق عبدالعزیز کی پیرول پر رہائی کے لیئے سپریم کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کی گئی تھی جس پر گذشتہ دنوں سماعت عمل میں آئی تھی جس کے دوران سینئر ایڈوکیٹ رتنا کر داس ، ایڈوکیٹ ارشاد حنیف اور ایڈوکیٹ مجاہد نے عدالت کو بتایا ملزم کی والدہ کا گذشتہ ماہ انتقال ہوگیا ہے اور ملزم نے تدفین میں شرکت کے لیئے جیل انتظامیہ سمیت جئے پور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن ٹاڈا مقدمہ کے ملزم ہونے کا بہانا بناکر ملزم کو پیرول پر رہا نہیں کیا گیا جس کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا جس کے بعد ملزم کو سپریم کورٹ نے ۲۱؍دنوں کے لیئے جیل سے رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے ۔
انہوں نے کہا کہ دیگر ملزمین کی پیرول پر رہائی کے لیئے ایڈوکیٹ مجاہد احمد نے جیل انتظامیہ سے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کے روشنی میں جیل انتظامیہ سے خط وکتابت کی ہے اور انہیں امید ہیکہ جیل انتظامیہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مدنظر عمر قید کی سزا کاٹ رہے دیگر قیدیوں کو بھی پیرول پر رہا کریگا ۔
گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کی خصوصی ہدایت پرٹاڈا کے ملزمین کی پیرول پر رہائی کے لیئے جمعیۃ علماء کی سپریم کورٹ میں کوششوں سے نا صرف مسلم قیدیوں بلکہ غیر مسلم قیدیوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے اور اب انہیں بھی اشفاق احمد کے فیصلے سے راحت مل رہی ہے ۔
واضح رہے کہ انڈین جیل قانون 1894 کے مطابق ان قیدیوں کو سال میں 30 سے لیکر 90 دنوں تک پیرول پر رہا کیا جاسکتا ہے جو جیل میں سزائیں کاٹ رہے ہیں اور وہ بیماری سے جوجھ رہے ہوں یا ان کی فیملی میں کوئی شدیدبیمار ہو ، شادی بیاہ میں شرکت کی خاطر، زچکی کے موقع پر، حادثہ میں اگر کسی فیملی ممبر کی موت ہوجائے تو جیل میں مقید شخص کو عارضی طور پر جیل سے رہائی دی جاتی ہے ۔